پریت کا گیت - حفیظ جالندھری
Preet Ka Geet By Hafiz Jalandhari
مندرجہ ذیل نظم حفیط جالندھری کی لکھی ’پریت کا گیت‘ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔
اپنے من میں پریت بسالے
اپنے من میں پریت
من مندر میں پریت بسالے
او مورکھ ، او بھولے
بھالے
دل کی دنیا کرلے روشن
اپنے گھر میں جوت جگالے
پریت ہے تیری ریت پرانی
بھول گیا او بھارت والے
بھول گیا او بھارت والے
پریت ہے تیری ریت
بسالے اپنے من میں پریت
اپنے من میں پریت بسالے
اپنے من میں پریت
نفرت اک آزار ہے ، پیارے
دکھ کا دارو پیار ہے ،
پیارے
آجا ، اپنے روپ میں آجا
تو ہی پریم اوتار ہے ،
پیارے
یہ ہارا تو سب کچھ ہارا
من کے ہارے ہار ہے ،
پیارے
من کے ہارے ہار ہے پیارے
من کے جیتے جیت
بسالے اپنے من میں پریت
اپنے من میں پریت بسالے
اپنے من میں پریت
دیکھ ، بڑوں کی ریت نہ
جائے
سر جائے پر میت نہ جائے
میں ڈرتا ہوں ، کوئی تیری
جیتی بازی جیت نہ جائے
جو کرنا ہے ، جلدی کرلے
تھوڑا وقت ہے ، بیت نہ
جائے
تھوڑا وقت ہے ، بیت نہ
جائے
وقت نہ جائے بیت
بسالے اپنے من میں پریت
0 Comments