Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

بھولا- جندر سنگھ بیدی Bhola By Jindr Singh Baidi

 بھولا-  راجندرسنگھ بیدی

Bhola by Rajinder Singh Bedi

Bhola by Rajinder Singh Bedi
مندرجہ ذیل افسانہ ’بھولا‘ راجندر سنگھ بیدی کا لکھا ہے۔یہ مضمون مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔

            میں نے مایا کو پتھر کے ایک کوزے میں مکھن رکھتے دیکھا۔ چھاچھ کی کھٹاس کو دور کرنے کے لیے مایا نے کوزے میں پڑے ہوئے مکھن کو کنویں کے صاف پانی سے کئی بار دھویا۔ اس طرح مکھن کے جمع کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی۔ ایسی بات عموماً مایا کے کسی عزیز کی آمد کا پتا دیتی تھی ۔ ہار مجھے یاد آیا، دو دن کے بعد مایا کا بھائی اپنی بیوہ بہن سے راکھی بندھوانے کے لیے آنے والا تھا۔ یوں تو اکثر بہنیں بھائیوں کے ہاں جا کر انھیں راکھی باندھتی ہیں مگر مایا کا بھائی اپنی بہن اور بھانجے سے ملنے کے لیے خود ہی آجایا کرتا تھا اور راکھی بندھوا لیا کرتا تھا۔ راکھی بندھوا کر وہ اپنی بیوہ بہن کو یقین دلاتا کہ جب تک اس کا بھائی زندہ ہے اس کی حفاظت کی مہ داری اپنے کندھوں پر لیتا ہے۔

            ننھے بھولے نے میرے اس خیال کی تصدیق کر دی ۔ گنا چوستے ہوئے اس نے کہا، " بابا! پرسوں ماموں جی آئیں گے نا ؟ میں نے اپنے پوتے کو پیار سے گود میں اٹھا لیا اور مسکراتے ہوئے کہا، بھولے! تیرے ماموں جی تیری ما تاجی کے کیا ہوتے ہیں؟“ بھولے نے کچھ تامل کے بعد جواب دیا، ماموں جی

            مایا کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ میں اپنی بہو کے اس طرح کھل کر ہنسنے پر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔ مایا بیوہ تھی اور سماج اسے اچھے کپڑے پہننے اور خوشی کی بات میں حصہ لینے سے بھی روکتا تھا۔ میں نے بار ہا مایا کو اچھے کپڑے پہننے، منے کھیلنے کی تلقین کرتے ہوئے سماج کی پروا نہ کرنے کے لیے کہا تھا مگر مایا نے از خود اپنے آپ کو سماج کے روح فرسا احکام کے تابع کر لیا تھا۔ اس نے اپنے تمام اچھے کپڑے اور زیورات کی پٹاری ایک صندوق میں مقفل کر کے چابی ایک جوہر میں پھینک دی تھی ۔

مایا نے اپنے بھل کو پیار سے پاس بلاتے ہوئے کہا، ” بھولے ! تم ننھی کے کیا ہوتے ہو؟

            بھائی“ بھولے نے جواب دیا۔

            اسی طرح تیرے ماموں جی میرے بھائی ہیں ۔

            بھولا یہ بات نہ سمجھ سکا کہ ایک ہی شخص کسی طرح ایک ہی وقت میں کسی کا بھائی اور کسی کا ماموں ہو سکتا ہے۔ وہ تو اب تک یہی سمجھتا آیا تھا کہ اس کے ماموں جان اس کے باباجی کے بھی ماموں جی ہیں۔

            مجھے دو پہر کو اپنے گھر سے چھے میل دور اپنے کھیتوں میں ہل پہنچانے تھے۔ بوڑھا جسم ، اس پر مصیبتوں کا مارا ہوا۔ بیٹے کی موت نے امید کو پیاس میں تبدیل کر کے کمر توڑ دی تھی۔ اب میں بھولے کے سہارے ہی جیتا تھا۔

            رات کو میں تکان کی وجہ سے بستر پر لیٹتے ہی اونگھنے لگا۔ ذرا توقف کے بعد مایا نے مجھے دودھ پینے کے لیے آواز دی۔ میں نے اسے سیکڑوں دعائیں دیتے ہوئے کہا، مجھ بوڑھے کی اتنی پروانہ کیا کرو، بیٹا "

            بھولا ابھی تک نہ سویا تھا۔ اس نے ایک چھلانگ لگائی اور میرے پیٹ پر چڑھ گیا۔ بولا، " بابا جی ! آپ آج کہانی نہیں سنائیں گے کیا ؟“ ”نہیں بیٹا ۔ میں نے کہا ” میں آج بہت تھک گیا ہوں ۔ کل دو پہر کو تمھیں سناؤں گا۔

            بھولے نے روٹھتے ہوئے جواب دیا، میں تمھارا بھولا نہیں بابا۔ میں ماتاجی کا بھولا ہوں

            بھولا بھی جانتا تھا کہ میں نے اس کی ایسی بات کبھی برداشت نہیں کی۔ میں ہمیشہ اس سے یہی سننے کا عادی تھا کہ بھولا بابا جی کا ہے اور ماتاجی کا نہیں ۔ مگر اس دن ہلوں کو کندھے پر اٹھا کر چھے میں تک لے جانے اور پیدل ہی واپس آنے کی وجہ سے میں بہت تھک گیا تھا۔ اس غیر معمولی تھکن کے باعث میں نے بھولے کی وہ بات بھی برداشت کی اور اونگھتے اونگھتے سو گیا۔

            صبح کے وقت اس نے پھر میری گود میں آنے سے انکار کر دیا اور بولا ، میں نہیں آؤں گا تمھارے پاس ، بابا

کیوں بھولے؟"

پھولا بابا جی کا نہیں .. بھولا ماتا جی کا ہے۔

            میں نے بھولے کو مٹھائی کے لالچ سے منایا اور چند ہی لمحات میں وہ بابا جی کا بھولا بن گیا اور میری گود میں آگیا اور اپنی تنخی ٹانگوں کے گرد میرے جسم سے لیٹے ہوئے کمبل کو لپیٹنے لگا۔ مایا نے پاؤ بھر مکھن نکالا اور اسے کوزے میں ڈال کر کنویں کے صاف پانی سے اس کی کھٹاس کو دھو ڈالا ۔ اب مایا نے اپنے بھائی کے لیے سیر کے قریب مکھن تیار کر لیا تھا۔ میں بہن بھائی کے اس پیار کے جذبے پر دل ہی دل میں خوش ہورہا تھا۔ میں نے دل میں کہا، عورت کا دل محبت کا ایک سمندر ہوتا ہے۔ ماں باپ، بھائی بہن، خاوند بچے، سب سے بہت ہی پیار کرتی ہے اور اتنا کرنے پر بھی اس کا پیار ختم نہیں ہوتا۔ ایک دل کے ہوتے ہوئے بھی وہ سب کو اپنا دل دے دیتی ہے۔ بھولے نے دونوں ہاتھ میرے گالوں کی جھریوں پر رکھے اور کہا، ” بابا تھیں اپنا وعدہ یاد ہے نا ؟

            کس بات کا ... بیا ؟

            تمھیں آج دو پہر کو مجھے کہانی سنانی ہے۔“ ”ہاں بیٹا ! میں نے اس کا منہ چومتے ہوئے کہا۔

            یہ تو بھولا ہی جانتا ہوگا کہ اس نے دو پہر کے آنے کا کتنا انتظار کیا۔ بھولے کو اس بات کا علم تھا کہ باباجی کے کہانی سنانے کا وقت وہی ہوتا ہے جب وہ کھانا کھا کر اس پلنگ پر جا لیٹتے ہیں جس پر وہ باباجی یا ما تا جی کی مدد کے بغیر نہیں چڑھ سکتا۔ چنانچہ وقت سے آدھا گھنٹا پیشتر ہی اس نے کھانا نکلوانے پر اصرار شروع کر دیا، میرے کھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے کہانی سننے کے چاؤ ہے۔

            میں نے معمول سے آدھا گھنٹا پہلے کھانا کھایا۔ ابھی میں نے آخری نوالہ توڑا ہی تھا کہ پٹواری نے دروازے پر دستک دی۔

اس نے کہا کہ خانقاہ والے کنویں پر آپ کی زمین کو ناپنے کے لیے مجھے آج ہی فرصت مل سکتی ہے، پھر نہیں۔

            دالان کی طرف نظر دوڑائی تو میں نے دیکھا، بھولا چار پائی کے چاروں طرف گھوم کر بستر بچھا رہا تھا۔ بستر بچھانے کے بعد اس نے ایک بڑا تکیہ بھی ایک طرف رکھ دیا اور خود پائینتی میں پاؤں اُڑا کر چار پائی پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔

            میں نے پٹواری سے کہا کہ تم خانقاہ والے کنویں کو چلو اور میں تمھارے پیچھے پیچھے آجاؤں گا۔ جب بھولے نے دیکھا کہ میں باہر جانے کے لیے تیار ہوں تو اس کا چہرہ مدھم پڑ گیا ۔ مایا نے کہا ، باباجی ، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ خانقاہ والا کنواں کہیں بھاگا تو نہیں جاتا۔ آپ کم سے کم آرام تو کر لیں ۔

            ’’اوں ہوں“ میں نے زیر لب کہا۔ ” پٹواری چلا گیا تو پھر یہ کام ایک ماہ سے ادھر نہ ہو سکے گا۔

            مایا خاموش ہوگئی ۔ بھولا منہ بسور نے لگا۔ اس کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ اس نے کہا، ”بابا ! میری کہانی ... میری کہانی ...

” بھولے ... میرے بچے ! میں نے ٹالتے ہوئے کہا۔ دن کو کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں ۔“

’’ راستہ بھول جاتے ہیں؟“  بھولے نے سوچتے ہوئے کہا بابا ! تم جھوٹ بولتے ہو ہمیں باباجی کا بھولا نہیں بنا ۔

            اب جبکہ میں تھکا ہوا بھی نہیں تھا اور پندرہ میں منٹ آرام کے لیے نکال سکتا تھا، بھولے کی اس بات کو آسانی سے کس طرحبرداشت کر لیتا۔ میں نے اپنے شانے سے چادر اتار کر چار پائی کی پائینتی پر رکھی اور پلنگ پر لیٹتے ہوئے بھولا سے کہا، ” اب کوئی مسافر راستہ کھو بیٹھے تو اس کے تم ذمے دار ہو گے۔“ اور میں نے بھولے کو دو پہر کے وقت سات شہزادوں اور سات شہزادیوں کی ایک کہانی سنائی۔ بھولا ہمیشہ اس کہانی کو پسند کرتا تھا جس کے آخر میں شہزادے اور شہزادی کی شادی ہو جائے ۔ مگر میں نے اس روز بھولے کے منہ پر خوشی کی کوئی علامت نہ دیکھی بلکہ وہ افسردہ منہ بنائے ہلکے ہلکے کا نپتا رہا۔

            اس خیال سے کہ پٹواری خانقاہ والے کنویں پر انتظار کرتے کرتے تھک کر کہیں اپنے گاؤں کا رُخ نہ کرلے، میں جلدی جلدی اپنے نئے جوتے میں دیتی ہوئی ایڑی کی وجہ سے لنگڑاتا ہوا بھا گا۔

            شام کو جب میں واپس آیا اور جوں ہی میں نے دہلیز میں قدم رکھا ، بھولے نے کہا بابا ... آج ماموں جی آئیں گے نا ؟“

”پھر کیا ہوا بھولے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

            ’’ماموں جی اگن بوٹ لائیں گے۔ ماموں جی کے سر پر کئی کے بھٹوں کا ڈھیر ہوگا ا بابا .. ہمارے تو مکئی ہوتی ہی نہیں بابا۔ اور تو اور وہ ایسی مٹھائی لائیں گے جو آپ نے خواب میں بھی نہ دیکھی ہوگی ۔

            میں حیران تھا اور سوچ رہا تھا کہ کس خوبی سے خواب میں بھی نہ دیکھی ہوگی“ کے الفاظ سات شہزادوں والی کہانی کے بیان میں سے اس نے یاد رکھے تھے۔

جیتا رہ میں نے دعا دیتے ہوئے کہا، بہت ذہین لڑکا ہوگا اور ہمارا نام روشن کرے گا۔

            شام ہوتے ہی بھولا دروازے میں جا بیٹھا تا کہ ماموں جی کی شکل دیکھتے ہی اندر کی طرف دوڑے اور پہلے اپنی ما تاجی کو اور پھر مجھے ، اپنے ماموں جی کے آنے کی خبر سنائے۔

            دیوں کو دیا سلائی دکھائی گئی۔ جوں جوں رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جاتا دیوں کی روشنی زیادہ ہوتی جاتی ۔ تب متفکرانہ لہجے میں مایا

نے کہا بابا جی ... بھیا ابھی تک نہیں آئے ۔

            ممکن نا ہے کوئی ضروری کام آپڑا ہو۔ راکھی کے روپے ڈاک میں بھیج دیں گے۔

مگر راکھی؟

            ہاں راکھی کی کہو۔ انھیں اب تک تو آ جانا چاہیے تھا۔

            میں نے بھولے کو زبردستی دروازے کی دہلیز پر سے اُٹھایا۔ بھولے نے اپنی ماتا سے بھی زیادہ متفکرانہ لہجے میں کہا، ” ما تاجی .... ماموں جی کیوں نہیں آئے ؟

            مایا نے بھولے کو گود میں اٹھاتے ہوئے اور پیار کرتے ہوئے کہا ، شاید صبح کو آجائیں تیرے ماموں جی ... میرے بھولے ۔

پھر بھولا کچھ دیر بعد سو گیا۔

            مایا کا بھائی ابھی تک نہیں آیا تھا۔ میں ستاروں کی طرف دیکھتے دیکھتے اونگھنے لگا۔ یکا یک مایا کی آواز سے میری نیند کھلی۔ وہ دودھ کا کٹورا لیے کھڑی تھی۔

            بیٹی تمھیں اس سیوا کا پھل ملے بغیر نہ رہے گا۔

            تبھی میرے پہلو میں بچھی ہوئی چار پائی پر سے بھولا آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھا۔ اُٹھتے ہی اس نے پوچھا، بابا ... ماموں جی ابھی تک کیوں نہیں آئے ؟

            آ جائیں گے بیٹا ! سو جاؤ ۔ وہ صبح سویرے آجائیں گے۔

            اپنے بیٹے کو اپنے ماموں کے لیے اس قدر بیتاب دیکھ کر مایا بھی کچھ بیتاب سی ہوگئی ۔ عین اسی طرح جس طرح ایک شمع سے دوسری شمع روشن ہو جاتی ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ بھولے کو لٹا کر تھکنے لگی۔ مایا کی آنکھوں میں بھی نیند آنے لگی ۔ دن بھر کے کام کاج کی تھکن مایا سے مایا گہری نیند سوتی تھی۔ میں نے مایا کو سو جانے کے لیے کہا اور بھولے کو اپنے پاس لٹا لیا۔

            بتی جلتی رہنے دو، صرف دھیمی کردو۔ میلے کی وجہ سے بہت سے چور چکار ادھر ادھر گھوم رہے ہیں ۔ میں نے مایا سے کہا۔

            سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس دفعہ میلے پر جو لوگ آئے تھے، ان میں ایسے آدمی بھی تھے جو کہ بچوں کو اغوا کر کے لے جاتے تھے۔ پڑوس کے ایک گاؤں میں دو ایک ایسی وارداتیں ہوئی تھیں اسی لیے میں نے بھولے کو اپنا پاس لٹا لیا تھا۔ میں نے دیکھا، بھولا جاگ رہا ہے۔ اس کے بعد میری آنکھ لگ گئی۔

            تھوڑی دیر کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں نے بتی کو دیوار پر نہ دیکھا۔ گھبرا کر ہاتھ پیارا تو بھولا بھی بستر پر نہ تھا۔ میں نے اندھوں کی طرح دیوار سے ٹکراتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے تمام چار پائیوں پر دیکھ ڈالا ۔ مایا کو بھی جگایا۔ گھر کا کونا کونا چھان مارا، بھولاکہیں نہ تھا۔

مایا . ہم لٹ گئے ۔“ میں نے اپنا سر پیٹتے ہوئے کہا۔

            مایا ماں تھی۔ اس کا کلیجا جس طرح شق ہوا، یہ کوئی اس سے پوچھے۔ اپنا سہاگ لٹنے پر اس نے اتنے بال نہ نوچے تھے جتنے کہ اس وقت نوچے۔ وہ دیوانوں کی طرح چینیں مار رہی تھی۔ پاس پڑوس کی عورتیں شور سن کر جمع ہوگئیں اور بھولے کی گمشدگی کی خبر سن کر رونے پیٹنے لگیں۔

            آج میں نے میلے کے ایک بازی گر کو اپنے گھر کے اندر گھورتے ہوئے دیکھا تھا مگر میں نے پروانہیں کی تھی۔ میں نے دعائیں کیں بنتیں مانیں کہ بھولامل جائے۔ وہی ہمارے اندھیرے گھر کا اُجالا تھا۔ اس کے دم سے میں اور مایا جیتے تھے۔ اس کی آس سے ہم اُڑے پھرتے تھے۔ وہی ہماری آنکھوں کی بینائی، وہی ہمارے جسم کی توانائی تھا۔ اس کے بغیر ہم کچھ نہ تھے۔

            میں نے گھوم کر دیکھا، مایا بے ہوش ہوگئی تھی۔ اس کے ہاتھ اندر کی طرف مڑ گئے تھے، آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور عورتیں اس کی ناک بند کر کے ایک چھے سے اس کے دانت کھولنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

            ایک لمحے کے لیے میں بھولے کو بھی بھول گیا۔ میرے پاؤں تلے کی زمین کھسک گئی۔ ایک ساتھ گھر کے دو لوگ جب دیکھتے دیکھتے ہاتھ سے چلے جائیں تو اس وقت دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ میں نے سوچا کہ ان دکھوں کے دیکھنے سے پہلے ایشور نے میری ہی جان کیوں نہ لے لی۔

            قریب تھا کہ میں بھی گر پڑوں ، مایا ہوش میں آگئی۔ مجھے پہلے سے کچھ سہارا ملا۔ میں نے دل میں کہا، میں ہی مایا کو سہارا دے سکتا ہوں۔ اور اگر میں خود اس طرح حوصلہ چھوڑ دوں تو مایا کسی طرح نہیں بچ سکتی۔ میں نے حواس جمع کرتے ہوئے کہا، "مایا بیٹی ... دیکھو! مجھے یوں خانہ خراب مت کرو۔ حوصلہ کرو۔ بچے اغوا ہوتے ہیں مگر مل بھی جاتے ہیں۔ بھولا مل جائے گا۔

            ماں کے لیے یہ الفاظ بے معنی تھے۔ اس وقت آدھی رات ادھر تھی اور آدھی رات اُدھر جب ہمارا پڑوسی اس حادثے کی خبر گاؤں سے دس کوس دور تھانے میں پہنچانے کے لیے روانہ ہوا۔

            ہم سب ہاتھ ملتے ہوئے صبح کا انتظار کرنے لگے تا کہ دن نکلنے پر کچھ بھائی دے۔ دفعتہ دروازہ کھلا اور ہم نے بھولے کے ماموں کو اندر آتے دیکھا۔ بھولا اس کی گود میں تھا۔ اس کے سر پر مٹھائی کی ٹوکریاں اور ایک ہاتھ میں بھی تھی۔ ہمیں تو گویا ساری دنیا کی دولت مل گئی۔ مایا نے بھائی کو پانی پوچھا نہ خیریت اور اس کی گود سے بھولے کو چھین کر اسے چومنے لگی۔ تمام اڑوس پڑوس نے مبارکباد دی۔ بھولے کے ماموں نے کہا، ” مجھے ایک کام کی وجہ سے دیر ہوگئی تھی۔ دمیر سے روانہ ہونے پر رات کے اندھیرے میں مَیں اپنا راستہ گم کر بیٹھا تھا۔ یکا یک مجھے ایک جانب سے روشنی آتی دکھائی دی۔ میں اس کی طرف بڑھا۔ اس خوفناک اندھیرے میں پرس پور سے آنے والی سڑک پر بھولے کو بتی پکڑے ہوئے اور کانٹوں میں الجھے ہوئے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے اس سے اس وقت وہاں ہونے کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ باباجی نے آج دوپہر کے وقت مجھے کہانی سنائی تھی اور کہا تھا کہ دن کے وقت کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ تم دیر تک نہ آئے تو میں نے یہی جانا کہ تم راستہ بھول گئے ہو گے اور بابا نے کہا تھا کہ اگر کوئی مسافر راستہ بھول گیا تو تم ذمے دار ہو گے ...!! 


 

Post a Comment

0 Comments