Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

غزل - سراج اورنگ آبادی Gazal By Siraj Aurangabadi

 

غزل   - سراج اورنگ آبادی
Gazal By Siraj Aurangabadi

مندرجہ ذیل غزل سراج اورنگ آبادی کی لکھی ہوئی مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن   کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔

اول کی ، تم نے بھول گئے مہربانیاں

لانے لگے ہو خوب تغافل کی بانیاں

کیا ہو دے گا ، سنو گے اگر کان دھر کے تم

گزری پرہ کی رات جو حج پر کہانیاں

دامن تلک بھی ہائے ، مجھے دسترس نہیں

کیا خاک میں ملی ہیں مری جاں فشانیاں

داغ فراق ، لالہ باغ خیال ہے

رہ گئیں مرے جگر میں تمھاری نشانیاں

شاید کسی کے قتل کی ہوتی ہے مصلحت

رمزیں تری نگاہ کی سب ہم نے جانیاں

مج دل کے کوہ طور کوں ، سرمہ کیسے ہو تم

باقی ہیں اب تلک بھی وہی لن ترانیاں

کب لگ روا رکھو گے تغافل سراج پر

اب اس قدر بھی خوب نہیں سرگرانیاں

Post a Comment

0 Comments