غزل
- میر درد
Gazal By
Meer dard
مندرجہ ذیل غزل میر درد کی لکھی ہوئی مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔
عشق ہر چند مری جان سدا کھاتا
ہے
پر یہ لذت تو وہ ہے ، جی
ہی جسے پاتا ہے
آه ، کب تک میں بکوں ،
تیری بلا سنتی ہے
باتیں لوگوں کی جو کچھ دل
مجھے سنواتا ہے
ہم نشیں ، پوچھ نہ اس شوخ
کی خوبی مجھ سے
کیا کہوں تجھ سے ، غرض جی
کو مرے بھاتا ہے
بات کچھ دل کی ہمارے تو
نہ سلجھی ہم سے
آپ خوش ہو وے ہے پھر آپ
ہی گھبراتا ہے
جی کڑا کر کے ترے کوچے سے
جب جاتا ہوں
دل دشمن یہ مجھے گھیر کے
پھر لاتا ہے
ورد کی قدر مرے یار
سمجھنا ، واللہ
ایسا آزاد ترے دام میں
یوں آتا ہے
0 Comments