Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

غزل - شیخ غلام ہمدانی مصحفی Gazal By Shaikh Gulam Hamdani Mushafi

 

غزل  - شیخ غلام ہمدانی مصحفی
Gazal By Shaikh Gulam Hamdani Mushafi

مندرجہ ذیل غزل شیخ غلام ہمدانی مصحفی کی لکھی ہوئی  مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن   کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔

نہ گیا کوئی عدم کو ، دل شاداں لے کر

یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر

باغ وہ دشت جنوں تھا کہ کبھی جس میں سے

لالہ و گل گئے ثابت نہ گریباں لے کر

پردہ خاک میں سو سو رہے جاکر ، افسوس

پردہ رخسار پہ کیا کیا ، مہ تاباں لے کر

ابر کی طرح سے کر دیویں گے عالم کو نہال

ہم جدھر جاویں گے یہ دیدہ گریاں لے کر

پھر گئی سوئے اسیرانِ قفس ، باد صبا

خبر آمد ایام بہاراں لے کر

رنج پر رنج جو دینے کی ہے خو قاتل کی

ساتھ آیا ہے بہم تیغ و نمک داں لے کر

مصحفی گوشئہ عزلت کو سمجھ تخت شہی

کیا کرے گا تو عبث ملک سلیماں لے کر

Post a Comment

0 Comments