غزل
- فانی بدایونی
Gazal By
Fani Badayuni
مندرجہ ذیل غزل فانی بدایونی کی لکھی ہوئی مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔
خلق کہتی ہے جسے دل ترے
دیوانے کا
ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی
ویرانے کا
اک معما ہے ، سمجھنے کا
نہ سمجھانے کا
زندگی کا ہے کو ہے ، خواب
ہے دیوانے کا
زندگی بھی تو پشیماں ہے
یہاں لا کے مجھے
ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے
مر جانے کا
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر
کو بدلتے ہوئے رنگ
آؤ ، دیکھو نا ، تماشا
مرے غم خانے کا
دل سے پہنچی تو ہیں
آنکھوں میں لہو کی بوندیں
سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے
پیمانے کا
ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے
میت ، فانی
زندگی نام ہے مر مر کے
جیے جانے کا
0 Comments