Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

تضحیک روزگار - مرزا محمد رفیع سودا Tazheek Rozgar By Mirza Muhammad Rafi Sauda

 

تضحیک روزگار - مرزا محمد رفیع سودا
Tazheek Rozgar By Mirza Muhammad Rafi Sauda

مندرجہ ذیل نظم مرزا محمد رفیع سودا کی لکھی تضحیک روز گارمہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن   کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔

ہے چرخ جب سے ابلق ایام پر سوار

رکھتا نہیں ہے دست عناں کا بہ یک قرار

جن کے طویلے بیچ ، کوئی دن کی بات ہے

ہر گز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار

اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے

موچی سے سزا جو ان کا کوئی نام لے نہار

ہیں گے چنانچہ ایک ہمارے بھی مہرباں

پاوے سزا جو ان کا کوئی نام لے نہار

نوکر ہیں سو روپے کے دیانت کی راہ سے

گھوڑا رکھیں ہیں ایک ،سو اتنا خراب وخوار

نے دانہ و نہ گاہ ، نہ تیمار ، نے سئیس

رکھتا ہو جیسے اسپِ گِلی طفل شیرِ ِخوار

نہ طاقتی کا اس کی کہاں تک کروں بیاں

فاقوں کا اس کے اب میں کہا تک کروں شمار

ہے اس قدر ضعیف کہ اڑ جائے باؤ سے

میخیں گر اس کے تھان کی ہوویں نہ استوار

نے استخواں ، نہ گوشت ، نہ کچھ اس کے پیٹ میں

دھونکے ہے دم کو اپنے کہ جوں کھول کو لُہار

القصہ ، ایک دن مجھے کچھ کام تھا ضرور

آیا یہ دل میں ، جائیے گھوڑے پہ ہو سوار

رہتے تھے گھر کے پاس قضارا وہ آشنا

مشہور تھا جنھوں کنے وہ اسپِ نابکار

خدمت میں اُن کی ، میں نے کیا جا کے التماس

گھوڑا مجھے سواری کو اپنا دو مستعار

فرمایا تب انھوں نے کہ اے مہربان من

ایسے ہزار گھوڑے کروں تم پہ میں نثار

لیکن کسو کے چڑھنے کے لائق نہیں یہ اسپ

ہی واقعی ہے ، اس کو نہ جانو گے انکسار

دہلی تک آن پہنچا تھا جس دن کہ مرہٹہ

مجھ سے کہا نقیب نے آکر ، ہے وقت کار

مدت سے کوڑیوں کو اُڑایا ہے گھر میں بیٹھ

ہو کر سوار ، اب کرو میدان میں گزار

لاچار ہو کے تب تو بندھایا میں اس پر زیں

ہتھیار باندھ کر ، میں ہوا جائے پھر سوار

چابک تھے دونوں ہاتھوں میں، پکڑے تھا منہ میں باگ

تک تک سے پاشنہ کے مرے پاؤں تھے فگار

آگے سے تو بڑا اسے دکھلائے تھا سکیں

پیچھے نقیب ہانکے تھا ، لاٹھی سے مار مار

اس مضحکے کو دیکھ ہوئے جمع خاص و عام

اکثر مدیر اُن میں سے کہتے تھے یوں پکار

پہیے اسے لگاؤ کہ تا ہودے یہ رواں

یا بادبان باندھ ، پون کے دو اختیار

گھوڑا تھا بسکہ لاغر و پست و ضعیف و خشک

کرتا تھا یوں خفیف مجھے وقت کارزار

جاتا تھا جب ، ڈپٹ کے میں اس کو ، حریف پر

دوڑوں تھا اپنے پاؤں سے جوں طفل نے سوار

جب دیکھا میں کہ جنگ کی یاں یوں بندھی ہے شکل

دھر دھمکا واں سے لڑتا ہوا شہر کی طرف

القصہ گھر میں آن کے میں نے کیا قرار

سودا نے تب قصیدہ کہا سن یہ ماجرا

ہے نام اس قصیدے کا تضحیک روزگار

Post a Comment

0 Comments