چلو
کہ آج - .....اختر الایمان
Chalo Ke
Aaj By Akhtar ul Iimaan
مندرجہ ذیل نظم اخترالایمان کی لکھی ہوئی چلو کہ آج مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔
کوئی جو رہتا ہے ، رہنے
دو ، مصلحت کا شکار
کوئی جو رہتا ہے ، رہنے
دو ، مصلحت کا شکار
چلو کہ جشن بہاراں منائیں
گے سب یار
چلو نکھاریں گے اپنے لہو
سے عارض گل
یہی ہے رسم وفا اور من
چلوں کا شعار
جو زندگی میں ہے ، وہ زہر
ہم ہی پی ڈالیں
چلو ہٹائیں گے پلکوں سے
راستوں کے خار
یہاں تو سب ہی ستم دیدہ ،
غم گزیدہ ہیں
کرے گا کون بھلا زخمہائے
دل کا شمار
چلو کہ آج رکھی جائے گی
نہاد چمن
چلو کہ آج بہت دوست آئیں
گے سر دار
0 Comments