Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

زمین کرب و بلا - وحید اختر Zameen Karb o Bala By Waheed Akhtar

 

زمین کرب و بلا - وحید اختر
Zameen Karb o Bala By Waheed Akhtar

مندرجہ ذیل نظم وحید اختر کی لکھی ہوئی زمین کرب و بلا  مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن   کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔

پوچھا ، یہ زمیں کیسی ہے ، کیا نام ہے اس کا

لگتا ہے کچھ ایسا ، یہ ازل سے ہے شناسا

افلاک سے ، تاروں سے گزر آئے سبک پا

یہ ذرے ہیں کیسے کہ قدم اُٹھ نہیں سکتا

آواز اک آئی ، یہ زمین کرب و بلا ہے

انسان کی معراج یہی خاک شفا ہے

سنتے ہی شبیر کا رخ ہو گیا تاباں

فرمایا کہ لو ، مل ہی گئی منزل جاناں

باندھا تھا اس خاک سے ، خوں نے مرے پیماں

ہمراہیوں سے بولے ، یہیں کھول دو ساماں

یہ نہر ، یہ صحرا ، یہ ترائی ہے ہماری

گر فضلِ خدا ہو تو خدائی ہے ہماری

اس خاک کو پہچان لیا دیدہ وروں نے

نیوڑھا دیے سر سجدے میں آشفتہ سروں نے

سمجھا صرف اس دشت کو روشن گہروں نے

اسباب سفر کھول دیا ہم سفروں نے

دریا نے قدم چوم لیے تشنہ لبی کے

برپا ہوئے خیمے حرم پاک نبی کے

دم بھی نہ لیا تھا کہ اُمنڈ نے لگے اعدا

بزدل کی طرح آنکھ بدلنے لگی دنیا

چھوٹا دل حاسد کی طرح ہو گیا صحرا

کم ظرف کے وعدے کی طرح پھر گیا دریا

گلشن سے نکالا گیا پھولوں کا سفینہ

پھر ریت پر آ ٹھہرا شہیدوں کا سفینہ

جب کذب کی بیعت سے کیا صدق نے انکار

سوداگر خون جسم پہ سجنے لگے ہتھیار

میداں  میں لگے ، اسلحہ جنگ کے انبار

شر حق کے مقابل ہوا آماده پیکار

خوابیدہ ضمیروں نے کیا جبر سے سودا

بیداری ایماں نے کیا صبر سے سودا

Post a Comment

0 Comments