Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

صحن چمن کی سیر - عادل ناگپوری Sahen e Chaman Ki Sair By Adil Nagpuri

 

صحن چمن کی سیر - عادل ناگپوری
Sahen e Chaman Ki Sair By Adil Nagpuri

مندرجہ ذیل نظم عادل ناگپوری کی لکھی ہوئی صحن چمن  مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن   کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔

خیال آیا یک روز صحن چمن کا

ہوا میلِ دِل دیدِ سرو و سمن کا

کیا دل نے اب تا کجا بند رہیے

کہاں تک بھلا گھر میں پابند رہیے

گریباں خاطر نہ صد پارہ کیجیے

بہارِ گل و لالہ نظارہ کیجیے

نسیم سحر عطر بیز چمن ہے

ہوا مست مینا ئے بوئے سمن ہے

طراوت دوِدل ہے فصل بہاراں

ہوا لطف بخشندہ جان یاراں

گل و غنچہ ہے صورت جام و مینا

روش عکس سبزہ سے جوں نقشِ مینا

صغير عنادل ملالت رہا ہے

خیاباں میں مستانہ پھرتی صبا ہے

ہوئی ختم تقریر جب دل کی یکسر

خرد نے کہا مجھ سے آشفتہ ہوکر

کہ اے بے خبر ، ابلہ و سخت ناداں

کبھی دل کی تقریر سے ہو نہ شاداں

حقیقت ہے سیر چمن دلربا ہے

ولے اس کو جوں اہلِ برگ و نوا ہے

یہ گل گشت زیبا نہیں ہر گدا کو

نہ ہر مفلس بندِ دامِ عنا کو

اگر یوں ہی منظور ہے سیر گلشن

ہے مطلوب سمع صفیر نوازن

ذرا چل کے اب دیکھ دربار اس کا

کہ کیسا ہے محفل کا گلزار اس کا

جسے دیکھے پیر فلک با قد خم

ادب سے کھڑا بہر مجرا دمادم

 

Post a Comment

0 Comments