Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

سیتا - شفیق فاطمه شعری Seeta By Shafeeque Fatema Shery

 

سیتا - شفیق فاطمه شعری
Seeta By Shafeeque Fatema Shery

مندرجہ ذیل نظم شفیق فاطمہ شعری کی لکھی ہوئی سیتا  مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن   کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔

ترا نام لے کر سحر جاگتی ہے

تری خاک پا ہند کا راز عظمت

کہانی تری سن کے تھرا اٹھی میں

ترے گیت گاتی ہے تاروں کی محفل

تری زندگی ، میرے خوابوں کی منزل

دھڑکنے لگا زور سے پھر مرا دل

وہ پیروں میں چھالے ، وہ ہستی نگاہیں

کبھی دیس کی یاد میں سرد آہیں

یہ دھن تھی کہ طے ہوں ریاضت کی راہیں

وہ پیہم سفر ، وہ حوادث کے طوفاں

کبھی دل کو غربت میں بہلائے رکھنا

رہی سالہا سال تو جاده پیما

مگر آزمائش تھی کچھ اور باقی

اسیری پھر اک راکشس کی اسیری

تری پاک فطرت مگر اک سپر تھی

ابھی سامنے اور بھی امتحاں تھے

بہت دور تجھ سے ترے پاسباں تھے

ترے سامنے راکشس ناتواں تھے

اُٹھے پھر ترا نام لے کر جواں کچھ

ہلا ڈالے ایوان اک سلطنت کے

تری واپسی کر رہی تھی یہ اعلان

جری ، حوصلہ مند ، بچے جیالے

ترے پاسباں تھے بڑی آن والے

کہ مٹتے نہیں ظلمتوں سے اُجالے

ہے جو ستم ، بن گئے سب فسانہ

ہوئی ، آه ، لیکن یہ کیسی تلافی

صلیب ایک باقی تھی جو مامتا کی

تلافی کا اب آرہا تھا زمانہ

دوبارہ ملا جنگلوں میں ٹھکانا

اسے بھی تو لازم تھا تنہا اُٹھانا

عجب ہیں یہ اسرار وصل و جدائی

یہ کیسا ستم تھا کہ عفت کی دیوی

وہ شعلے کی مانند شعلوں سے گزری

کہ منزل کو پاکر بھی منزل نہ پائی

ثبوت اپنی عفت کا دینے کو آئی

وہ بجلی سی بن کر زمین میں سمائی

Post a Comment

0 Comments