غزل
- را جندر منچندہ بانی
Gazal By
Rajinder Manchanda Bani
مندرجہ ذیل غزل راجندر منچندہ بانی کی لکھی ہوئی مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری ایند ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کی جماعت دہم کے مضمون اردو سے ماخذ ہے۔ یہ مضمون طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے۔
تمام راستہ پھولوں بھرا
ہے میرے لیے
کہیں تو کوئی دعا مانگتا
ہے میرے لیے
تمام شہر ہے دشمن ، تو
کیا ہے میرے لیے
میں جانتا ہوں ترا در
کھلا ہے میرے لیے
مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے
گا ، ہم سفرو
مگر سفر کا تقاضا جدا ہے
میرے لیے
عجیب درگزری کا شکار ہوں
اب تک
کوئی کرم ہے نہ کوئی سزا
ہے میرے لیے
گزرسکوں گا نہ اس خواب
خواب بستی سے
یہاں کی مٹی بھی زنجیر پا
ہے میرے لیے
اب آپ جاؤں تو جاکر اسے
سمیٹوں میں
تمام سلسلہ بکھرا پڑا ہے
میرے لیے
یہ کیسے کوہ کے اندر میں
دفن تھا ، بانی
وہ ابر بن کے برستا رہا
ہے میرے لیے
0 Comments